دنیا کی بے وُقْعَتی
پیارے اسلامی بھائیو! جو لوگ حبیبِ خدا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے جلووں میں گم ہوتے ہیں ان کی نظروں میں دنیا و مافیھا کی کوئی وقعت نہیں ہوتی، یہ دنیا سے دور بھاگتے ہیں اور ہر وقت سفرِ آخرت کے لئے زادِ راہ تیار کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب حُسنِ اَخلاق کے پیکر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے سب سے بہتر انسان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’صاف دل اور سچی زبان والا انسان سب سے بہتر ہے۔‘‘ عرض کی گئی : ’’صاف دل والے کون ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’وہ متقی و پرہیزگار مسلمان جن کے دل میں (ذرہ برابر) نافرمانی اوربغض وحسد نہ ہو۔‘‘ عرض کی گئی: ’’اس کے بعد؟‘‘ فرمایا: ’’جو دنیا سے نفرت کریں اور آخرت سے محبت۔‘‘ (شعب الایمان للبیھقی، باب حفظ اللسان، ج۴، ص۲۰۵)
محبت کی کنجی:
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت پانے کے لئے لازم ہے کہ بندہ دنیا سے بے رغبت ہو جائے۔ جیسا کہ حضورنبی ٔرحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جب تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا محبوب بننا چاہو تو دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ۔‘‘ (قوت القلوب، الفصل التاسع والعشرون، ج۱، ص۱۹۵)