Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
21 - 55
جزا بالیقین پائے گا اور بہت زیادہ پائے گا۔(خزائن العرفان، پ۲، البقرۃ، تحت الایۃ:۲۴۵)
سَیِّدُنَا طَلْحَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یومیہ نَفع
پیارے اسلامی بھائیو!  راہِ خدا میں  دی جانے والی چیز ہر گز ضائِع نہیں  ہوتی آخِرت میں  اجر و ثواب کی حقدار ی تو ہے ہی، بعض اَوقات دنیا میں  بھی اضافے کے ساتھ ہاتھوں  ہاتھ اس کا نِعم البدل عطا کیا جاتا ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ راہِ خدا میں  دینے سے مال بڑھتا ہے گھٹتا نہیں  جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں : ’’دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’صدقہ مال میں  کمی نہیں  کرتا ۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب استحباب العفو و التواضع، الحدیث۲۵۸۸، ص ۱۳۹۷)
حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ  سے جو تجارت کی تھی اس کا حقیقی نفع تو یقینا انہیں  آخرت میں  ملے گا مگر دنیا میں  بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اس کی برکتوں  سے محروم نہ رہے۔ چنانچہ، 
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یو میہ آمدنی ایک ہزار  درہم سے زائد تھی۔ (المعجم الکبیر، الحدیث:۱۹۶،ج۱،ص۱۱۲)