Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
20 - 55
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے تجارت کا نَفع
پیارے اسلامی بھائیو!  حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرح جو بھی راہِ خدا میں  مال خرچ کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّاسے اپنی برکتوں  سے کبھی بھی خالی اور محروم نہیں  رہنے دیتا۔ چنانچہ، 
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضْعَافًا کَثِیۡرَۃًؕ وَاللہُ یَقْبِضُ وَیَبْصُۜطُ۪(پ۲، البقرۃ:۲۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان: ہے کوئی جو اللہکو قرضِ حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گُنا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے۔  
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولٰینا محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’خزائن العرفان‘‘ میں  اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : راہِ خدا میں  خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر فرمایایہ کمال لطف وکرم ہے بندہ اس کابنایا ہوا اور بندے کامال اس کاعطا فرمایا ہوا حقیقی مالک وہ اور بندہ اس کی عطاسے مجازی ملک رکھتا ہے مگر قرض سے تعبیر فرمانے میں  یہ دل نشین کرنامنظور ہے کہ جس طرح قرض دینے والا اطمینان رکھتا ہے کہ اس کامال ضائع نہیں  ہواوہ اس کی واپسی کامستحق ہے ایسا ہی راہِ خدا میں  خرچ کرنے والے کو اطمینان رکھنا چاہئے کہ وہ اس انفاق کی