Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
19 - 55
دیا اور جب اسلامی فتوحات کے نتیجے میں  تَعَیُّش و فراوانی کا دور آیا تو مال و دولت کی چمک دمک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر اثر انداز نہ ہو سکی۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ، حضرتِ  سُعْدٰی بنت عَوْف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں  کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تشریف لائے تو میں  نے انہیں  رنجیدہ خاطر دیکھ کر سبب پوچھا اور عرض کی: ’’کیا مجھ سے کوئی خطا ہو گئی ہے؟‘‘ فرمانے لگے: ’’نہیں ! پریشان تو ہوں  مگر اس کا سبب آپ نہیں ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا تو ایک مردِ مسلم کی نیک بیوی ہیں ، بلکہ میری پریشانی کا سبب یہ ہے کہ میرے پاس کافی مقدار میں  مال جمع ہو گیا ہے اور سمجھ میں  نہیں  آ رہا کہ اس کا کیا کروں ؟‘‘ فرماتی ہیں ، میں  نے عرض کی: ’’یہ بھی کوئی پریشانی والی بات ہے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے (راہِ خدامیں ) تقسیم فرما دیں۔‘‘ پس حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سارا مال لوگوں  میں  تقسیم فرما دیا یہاں  تک کہ ایک دِرہم بھی نہ چھوڑا ۔ حضرتِ  سُعْدٰی بنت عَوْف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں  کہ میں نے جب حضرت سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے خزانچی سے مال کی مقدار معلوم کی تو اس نے 4 لاکھ دِرہم بتائی۔(الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الرقم۴۷طلحۃ بن عبیداللہ، ج۳، ص۱۶۵، المعجم الکبیر،  الحدیث:۱۹۵،ج۱، ص ۱۱۲)