Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
18 - 55
حقیقی تجارت
پیارے اسلامی بھائیو!  حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ایک کامیاب تاجر تھے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک کامیاب تاجر گھاٹے کا سودا کر لے؟ چنانچہ، اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے جو تجارت کی وہ بڑی ہی نفع مند ثابت ہوئی اس طرح کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنا تن من دھن سب کچھاللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے محبوبِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے نام پر قربان کر دیا اور اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بھی اسے قبول فرما لیا۔ چنانچہ، 
ایسے ہی لوگوں  کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشاد فرمایا:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْرِیۡ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللہِؕ وَاللہُ رَءُوۡفٌۢ بِالْعِبَادِ﴿۲۰۷﴾(پ۲،البقرۃ:۲۰۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے اللہ کی مرضی چاہنے میں  اور اللہ بندوں  پر مہربان ہے ۔ 
یہی وجہ ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہر لمحہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ ظلم و ستم کی آندھیاں  چلیں  تو گھبرائے نہ پچھتائے بلکہ اپنے محبوب کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی نصیحت کے مطابق کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے