بغلی قبر کھودنے کی وصیت:
حضرت عامر ابن سعد ابن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سعد ابن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے مرض وفات میں فرمایا: ’’میرے لیے بغلی قبر کھودنا اور مجھ پر کچی اینٹیں یونہی کھڑی کرنا جیسے رسول ﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے کی گئیں۔‘‘(1)
بغلی قبر کسے کہتے ہیں؟
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ بَغْلِی قَبْر یہ ہے کہ اولاً زمین سیدھی کھودی جائے پھر قبلہ کی جانب میت کے جسم کے مطابق گڑھا کیا جائے اور یہ جو دروازہ سا بن گیا اسے اینٹوں یا پتھروں سے بند کر دیا جائے یہاں پکی اینٹ یا لکڑی لگانا مکروہ ہے کہ ان میں آگ کا اثر ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قبرِ انور میں نو کچی اینٹیں لگائی گئیں کیونکہ مدینہ منورہ کی اینٹ بہت بڑی ہوتی ہے، حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قبرِ انور زمین سے ایک بالشت اونچی رکھی گئی۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب في اللحد ونصب اللبن على الميت، الحدیث: ۹۶۶، ص۴۸۱
2…مراٰۃ المناجیح، باب دفن المیت، الفصل الاول، ج۲، ص۴۸۷