Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
84 - 87
انتقال ہوا اسی سال ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ، حضرت سیدتنا ام سلمہ اور حضرت سیِّدُنا امامِ حسن مجتبیٰ رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا بھی انتقال ہوا۔(1)
ترکہ:
حضرت سیِّدُنا سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صاحبزادی حضرت سیدتنا عائشہ بنت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   فرماتی ہیں کہ میرے والد گرامی نے مروان کو اپنے مال کی زکوٰۃ پانچ ہزار درہم بھیجی اور جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا وصال ہوا تو ترکے میں آپ نے دولاکھ اور پچاس ہزار درہم چھوڑے۔(2)
عشق سے معموروصیت:
انتقال سے قبل آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عشق سے معمور یہ وصیت فرمائی کہ مجھے اس جبہ میں کفن دیا جائے جسے پہن کر میں نے جنگ بدر میں مشرکین سے جہاد کیا تھا، لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وصیت کے مطابق آپ کو اسی جبہ شریف میں کفن دیا گیا اور تا قیامت آرام فرمانے کے لئے جنت البقیع میں دفن کر دیا گیا۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، سعد بن مالک ابی وقاص، ج۲۰، ص ۳۷۱
2…المرجع السابق، ص ۳۶۳
3…الریاض النضرۃ، ج۲، ص ۳۶۴