Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
83 - 87
قیدیوں میں سے تھی اور حضرت سیدتناعائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا کتب میں اکثر ذکر ملتا ہے (مگر ان کی والدہ کے متعلق کسی نے کچھ ذکر نہیں کیا) اور انہوں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے کئی احادیث بھی روایت کی ہیں۔(1)
وصالِ پرملال:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا وصالِ پرُملال ۵۸ سن ہجری کوحضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانۂ خلافت میں ’’وادیٔ عقیق‘‘ میں ہوا جو کہ مدینہ منورہ سے تقریباً دس میل کی دوری پر واقع ہے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جسدِ مبارک کندھوں پر اٹھا کر مدینہ منورہ لایا گیا۔ والیٔ مدینہ مروان بن حکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور امہاتُ المومنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ  نے اپنے اپنے حجروں میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نمازِ جنازہ ادا کی۔(2)
سب سے آخرمیں انتقال:
مہاجرین صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سب سے آخر میں حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا انتقال ہوا۔(3) جس سال آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، ابو اسحق سعد بن ابی وقاص، ذکر اولادہ، ج۱، الجزء الاول، ص۱۸۷
2…الریاض النضرۃ ، ج۲، ص۳۳۳
3…المستدرک علی الصحیحین،کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر مناقب ابی اسحاق سعد بن ابی وقاص، الحدیث:۶۱۵۶، ج۴، ص ۶۳۱