Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
77 - 87
شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے اس بندے سے محبت رکھتا ہے جو متقی یعنی پرہیزگار اور ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے والا ہو، مستغنی یعنی لوگوں سے بے پرواہ ہو اور اپنے گرد لوگوں کی ریل پیل کی خواہش رکھنے والا نہ ہو بلکہ گوشہ نشین ہو۔‘‘(1)
مخلوق سے کنارہ کشی:
حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرمایا کرتے: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اور لوگوں کے درمیان لوہے کا ایک دروازہ ہو، نہ مجھ سے کوئی بات کرے اور نہ ہی میں کسی سے بات کروں یہاں تک کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے جا ملوں۔‘‘(2)
انصار سے والہانہ محبت:
حضرت سیِّدُنا عامر بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والدِ گرامی حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی: ’’ابا جان! آپ نے انصار کے محلے میں گھر بنایا ہے، اس کی کوئی خاص وجہ؟‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دینے کے بجائے مجھ سے پوچھ لیا کہ ’’کیا تمہارے دل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح مسلم، کتاب الزھد والرقائق، الحدیث:۲۹۶۵، ص۱۵۸۵
2…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب العزلۃ والإنفراد، الحدیث:۵۷، ج۶، ص۵۱۱