کہ آپ کے بھتیجے حضرت سیِّدُنا ہاشم بن عتبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ کے پاس آئے اور عرض کی: ’’وہاں ایک لاکھ تلواریں خلافت کے معاملے میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فیصلے کی منتظر ہیں اور آپ یہاں تشریف فرما ہیں۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ’’تم مجھے ایسی تلوار لا دو جس سے اگر میں مسلمان کو ماروں تو اسے کوئی نقصان نہ پہنچائے اور اگر کافر کو ماروں تو اسے کاٹ ڈالے۔‘‘(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا پسندیدہ بندہ:
انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے اونٹوں کے پاس موجود تھے کہ اتنے میں آپ کا بیٹا عمر بن سعد دور سے آتا ہوا دکھائی دیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے کو دیکھ کر فرمایا: ’’میں اس سوار کے شر سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ (کیونکہ وہ آپ کو گوشہ نشینی ترک کرنے اور امورِ خلافت میں دلچسپی لینے کے لئے ابھارا کرتا تھا) چنانچہ بیٹے نے قریب آکر شکوہ بھرے لہجے میں عرض کی: ’’آپ تو اونٹوں اور بکریوں وغیرہ میں لگے رہتے ہیں اور لوگوں کو سلطنت کے معاملے میں جھگڑنے کے لئے چھوڑ دیا ہے ان کے پاس جاتے ہی نہیں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: ’’خاموش ہو جاؤ! میں نے تاجدارِ رِسالت،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تاریخ مدینۃ دمشق، سعد بن مالک ابی وقاص ، ج۲۰، ص ۲۸۷