اپناتے تھے۔آج ہماری اکثریت سنتوں سے کوسوں دورہے اور اگربعض لوگوں کو مدنی ماحول کی برکت سے سنتیں اپنانے کا جذبہ ملتا بھی ہے توعموماً نفس پر گراں گزرنے والی سنتیں جیسے کم اور سادہ کھانا، سادہ لباس پہننا وغیرہ سے وہ بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ اے کاش! ہمیں پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں سے والہانہ محبت ہوجائے اور بس یہی زباں پرجاری ہوجائے:
شہا ایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں
تری سنّتیں سکھانا مدنی مدینے والے
تری سنتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر
چلے تم گلے لگانا مدنی مدینے والے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خوش بختی اور بدبختی والی تین تین چیزیں:
حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق شیبانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:’’تین چیزیں خوش بختی ہیں اور تین بد بختی۔‘‘
خوش بختی والی تین چیزیں یہ ہیں:(۱)اطاعت گزارنیک بیوی(۲) ایسی سواری جو نیک ساتھیوں کے پاس بروقت پہنچا دے (۳)اور ایسا وسیع گھر جو