بے شک میں جنتی ہوں:
حضرت سیِّدُنا مصعب بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ وقتِ اخیر میرے والد ماجد یعنیحضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سرِ اقدس میری گود میں تھا، میری آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر انہوں نے مجھ سے پوچھا: ’’اے میرے بیٹے! تجھے کس چیز نے رُلایا؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حالت دیکھ کر آبدیدہ ہو گیا تھا کہ آپ جیسا فاتح ایران، مردِ میدان آج اس گوشہ نشینی و سادگی کے عالم میں بستر مرگ پر جاں بلب ہے، بس یہی سوچ کر میری قوتِ برداشت جواب دے گئی اور آنسو بہہ پڑے۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’آنسو مت بہاؤ! کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کبھی بھی عذاب نہیں دے گا اور بے شک میں جنتی ہوں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ یقیناً مومنین کو اُن نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے گا جو انہوں نے خالص اس کی رضا کے حصول کے لئے کیں۔‘‘(1)
سنتوں سے والہانہ محبت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ تھے سچے عاشقوں کے انداز کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہر ہر سنت کو دل و جان سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ذكر وصية سعد ، ج ۳، ص۱۰۸