لمحہ فکریہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی بہت نازک معاملہ ہے،آج کل قرآنی آیات کے تراجم اوراحادیث بیان کرنےمیں بھی بہت بے احتیاطی کی جاتی ہے، بالخصوص موبائل کے ذریعے ایسے دینی مواد کو کسی سنی صحیح العقیدہ عالم یا دارالافتا اہلسنت کی تصدیق کے بغیر آگے بھیج دیا جاتا ہے۔ یاد رکھیے! قرآنِ پاک کی کسی آیت کا غلط ترجمہ یا کسی ایسی بات کو جو حدیث نہ ہو اسے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف منسوب کر کےجان بوجھ کر بطورِ حدیث بیان کرنا گناہِ کبیرہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ایسے شخص کے لیے خود سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےجہنم کی وعید ارشاد فرمائی۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔‘‘(1)
جبحضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے احادیث ِ مبارکہ سننے کے باوجود اتنی احتیاط فرماتے تھے، تو ہمیں بھی اس معاملے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح البخاری، کتاب العلم، باب اثم من کذب …الخ،الحدیث:۱۱۰، ج۱، ص۵۷