ایک ہی حدیث بیان فرمائی:
حضرت سیِّدُنا سائب بن یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’میں نے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ سفر کیا ‘‘اورحضرت سیِّدُناسلیمان بن بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: ’’میں کافی عرصے تک حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ رہا لیکن حدیث بیان کرنے میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی احتیاط کا یہ عالم تھاکہ اتنے عرصے میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فقط ایک ہی حدیث بیان فرمائی۔‘‘(1)
مسئلہ پوچھنے پرسکوت:
حضرت عائشہ بنت سعدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتی ہیں کہ میرے والد گرامی حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کوئی مسئلہ پوچھاگیا توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کوئی خاطر خواہ جواب نہ دیا بلکہ ارشاد فرمایا: ’’مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ میں تو تمہیں ایک حدیث بیان کروں گا مگر تم اضافہ کر کے اس سے کئی حدیثیں بنا لو گے۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینہ دمشق ،سعد بن مالک ابی وقاص،ج۲۰ص۳۶۱
2…الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ذكر جمع النبي صلى الله عليه و سلم لسعد أبويه بالفداء، ج۳، ص۱۰۶