عَمْرو بن معدیکرب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شخصیت اور کردار کے متعلق ان کی رائے طلب کی تو انہوں نے عرض کی: ’’وہ تو نہایت ہی اعلیٰ صفات کے حامل ہیں، قرض وخراج وغیرہ وصول کرنے میں کبھی سختی سے کام نہ لیا بلکہ ہمیشہ نرمی اختیار کی، حالانکہ تیزی اور ہوشیاری میں وہ چیتے کی کھال میں لپٹے ایک خالص عربی ہیں اور بہادری میں تو شیر کی مثل ہیں، فیصلہ کرنے میں کبھی غلطی نہ کی بلکہ ہمیشہ انصاف فرمایا اور تقسیم کے معاملے میں کبھی کسی کا حق تلف نہیں کیا بلکہ ہمیشہ مساوات سے کام لیا۔ نیز ہمارے حقوق کے معاملے میں وہ چیونٹیوں کی طرح ذمہ داری سے کام لیتے ہیں۔‘‘(1)
حدیث بیان کرنے میں احتیاط:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شخصیت واقعی ایسی تھی کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ان پرآنکھیں بندکرکے اعتمادکیاکرتے تھے،لیکن اس کے باوجود آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاحتیاط کا دامن کبھی نہ چھوڑتے تھے، بالخصوص سرکارِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حدیث بیان کرنے کے معاملہ میں انتہائی احتیاط فرماتے۔چنانچہ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المجالسة وجواهر العلم، الجزء الرابع عشر، الحدیث:۲۰۲۰، ج۲، ص۲۶۵