وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ان کے معاملات سلجھانے کے لئے وہاں بھیجا اور ساتھ ہی ان دونوں کویہ حکم جاری کیاکہ وہ حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بات غور سے سنیں اور یہ جو فیصلہ فرما ئیں اس پر عمل کریں۔ چنانچہ دونوں نے ایسا ہی کیا۔(1)
آپ کی صداقت کی گواہی:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے موزوں پر مسح فرمایا۔
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے آپ سے یہ حدیث سن کر امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا کہ ’’کیا یہ بات بالکل صحیح ہے؟‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں! اور جب سعد تمہیں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کوئی حدیث سنائیں تو اس کی تصدیق کے لیے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔‘‘(2)
حقوق العبادکے معاملہ میں احتیاط:
امیر المومنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق،سعد بن مالک ابی وقاص، ج۲۰، ص۳۵۱
2…صحیح البخاری،کتاب الوضوء، باب المسح علی الخفین ،الحدیث:۲۰۲، ج۱، ص۹۲