Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
68 - 87
سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی ایسے ہی صحابی تھے کہ تمام صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ان کی شخصیت پر بھرپور اعتماد کیا کرتے تھے اور کئی معاملات میں ان سے مشاورت بھی کیا کرتے تھے۔ چنانچہ،
رکن شوریٰ:
امیر المومنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نئے خلیفہ کے انتخاب کے لئے حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسمیت دیگرچھ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر مشتمل ایک ’’شوریٰ‘‘ بنائی اور ارشاد فرمایا: ’’شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم    اپنی وفاتِ ظاہری تک ہمیشہ ان سے خوش رہے، اگر یہ شوریٰ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو خلیفہ منتخب کر لے تو ٹھیک ورنہ جو بھی خلیفہ بنے وہ اپنے معمولات میں ان سے رہنمائی ضرور لیتا رہے۔‘‘(1)
آپ کے فیصلے پرعمل کاحکم:
امیر المومنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ خلافت میں جریراور مثنیٰ بن حارثہ کے مابین حکومتی معاملات میں کچھ اختلافات ہوگئے توامیر المومنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُناسعدبن ابی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تاریخ مدینۃ دمشق، سعد بن مالک ابی وقاص ، ج۲۰، ص ۳۵۴