کے سر پر ہاتھ پھیرنا مستحب ہے۔(1)
دین کے مددگار:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ’’نَاصِرُ الدِّیْن‘‘ یعنی دین کے مددگار کا لقب عطا ہوا۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اے سعد!تم جہاں بھی ہو گے دین کے مدد گار رہو گے۔‘‘(2)
معتدبہا شخصیت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اچھے اخلاق واطوار ہونے کے باوجود ان کی شخصیت ایسی نہیں ہوتی کہ دینی ودنیاوی معاملات میں ان سے مشاورت کی جائے یا ان معاملات میں ان کی شخصیت پر اعتماد کیا جائے، ان کی بات کو قولِ فیصل کی حیثیت حاصل ہو، اگر کسی کی ذات میں ایسا ملکہ موجود ہے تو یقیناً وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک عظیم نعمت سے بہرا مند ہے، حضرت سیِّدُنا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مکارم الاخلاق،باب فضل التکفل بامر الایتام، الحدیث: ۱۰۹، ص۳۵۲
2…الریاض النضرۃ، الباب الثامن فی مناقب سعد بن مالک،ذکر انہ ناصر الدین ج۲ص۳۳۰