Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
66 - 87
فرشتہ بول رہا ہے۔‘‘ اس نے اپنے کلام کو دہرایا۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جو کچھ آلِ رسول کے گھر میں ہے لے آؤ۔‘‘پس ایک برتن (اناج وغیرہ کا) پیش کیا گیا جو دیکھنے میں ایک سے زیادہ اور دولپ سے کم تھا۔ محسنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے لڑکے! یہ لے جاؤ اس میں تمہارے لیے، تمہاری والدہ اور بہن کے لئے دوپہر اور رات کا کھانا ہے، میں اس کھانے میں برکت کی دعا سے تمہاری مدد کرتا رہوں گا۔‘‘ 
وہ لڑکا وہاں سے رخصت ہو کر جب مسجد کے دروازے پر پہنچا تواس کا سامنا حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہوا آپ نے اس کے سر پر دست ِ شفقت پھیرا ۔ انہیں یہ بات معلوم نہ تھی کہ اسے کچھ عطا کیا گیا ہے یا نہیں؟پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ نبوی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  میں حاضر ہوئے تو سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں نے تمہیں نہیں دیکھا جب تم اُس لڑکے سے ملے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا؟‘‘ حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:’’کیوں نہیں‘‘سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس جس بال پرتمہارا ہاتھ گزرا اسکے بدلے تمہارے لیے نیکی ہے ۔‘‘معلوم ہوا یتیم