مبارک ہے وہ بیماری جس میں ایسے تیماردار امت کے غم خوارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود چل کر مریض کے پاس آویں۔(1)
سر بالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے
حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ہر بال کے بدلے نیکی:
حضرت سیِّدُنا جُبَیْر انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والدگرامی سے روایت کرتے ہیں کہ رحمتِ عالَم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد نبوی میں تشریف فرماتھے،ایک لڑکا کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یعنی اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو، میں ایک یتیم مسکین لڑکا ہوں اورمیرے ساتھ میری ضعیف والدہ ہے ،جو کچھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو عطا فرمایا ہے اس میں سے تھوڑا سا ہمیں بھی عطا فرما دیجئے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی رضا چاہتا ہے یہاں تک کہ آ پ راضی ہو جائیں۔ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اے لڑکے! اپنی بات دہراؤتمہاری زبان سے تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مرآۃ المناجیح، ج ۶،ص۴۰ تا ۴۱