Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
64 - 87
مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دستِ شفقت کی ٹھنڈک اپنے جگر میں محسوس کرتا ہوں۔‘‘(1)
حکیم الامت مفتی احمد یارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اس حدیث پاک کی شرح میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’یہ واقعہ فتح مکہ کے سال کا ہے۔اس وقت آپ مکہ معظمہ میں تھے ،سخت بیمار ہوگئے تھے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   اپنی جائے قیام سے آپ کی جائے قیام پر صرف مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ معلوم ہوا کہ اپنے خدام کی مزاج پرسی، بیمار پرسی کے لیے ان کے گھر جانا سنت ہے۔ حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ہاتھ مبارک قدرتی طور پر قدرے ٹھنڈے تھے جن سے دوسرے کو نہایت خوشگوار ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی چونکہ حضرت سیِّدُنا سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دل کی بیماری تھی اس لیے حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے بیماری کی جگہ ہاتھ رکھا۔معلوم ہوا کہ مرض کی جگہ ہاتھ رکھنا عیادت کے لیے سنت ہے۔ ’’فواد‘‘ دل کو بھی کہتے ہیں، دل کے پردے کو بھی اور سینہ کو بھی جو دل کا مقام ہے۔ یہاں غالباً سینہ مراد ہے۔
دل کرو ٹھنڈا مرا وہ کف پا چاند سا
سینے پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح البخاری،کتاب المرضی ،باب وضع الید علی المریض، الحدیث: ۵۶۵۹، ج۴، ص۸