Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
63 - 87
ہیں: ایک مرتبہ میں مکہ مکرمہ میں سخت بیمار ہو گیا، حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  میری عیادت کے لئے تشریف لائے،میں نے عرض کیا: ’’یانبی اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! میں ترکے میں مال چھوڑ رہا ہوں،میرے پیچھے میری صرف ایک ہی بیٹی ہے، کیا میں دو ثلث راہِ خدا میں اور ایک ثلث اسکے لئے وصیت کر جائوں؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منع فرما دیا۔ میں نے نصف کہا تو بھی انکار فرما دیا، پھر میں نے عرض کی: تہائی کی وصیت کر کے دو تہائی بیٹی کے لئے چھوڑ دوں؟ تو ارشاد فرمایا: ’’تہائی کی (وصیت) کر دو تہائی بہت ہے، اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ تو یہ انہیں غریب چھوڑنے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور جو کچھ تم راہِ خدا میں خرچ کرو وہ صدقہ ہے، یہاں تک کہ جو لقمہ تم اٹھا کر بیوی کے منہ میں ڈالو وہ بھی صدقہ ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں بلند کر دے گا تو کتنے ہی لوگ تم سے نفع اٹھائیں گے۔‘‘ اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا دست مبارک میری پیشانی پر رکھا، پھر چہرے اور پیٹ پر پھیرا، اس کے بعد میرے حق میں یوں دعا کی: ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! سعد کو شفا عطا فرما اور اس کی ہجرت کو پایۂ تکمیل تک پہنچا۔‘‘حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ’’اب بھی میں ان حسین اور پرکیف لمحات کو یاد کرتا ہوں تو شہنشاہِ