Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
62 - 87
جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے
کہ یہاں مرنے پر ٹھہرا ہے نظارہ تیرا
 یعنی اگر دوزخ کے لیے پیدا کئے گئے ہو تو موت مانگنے میں کوئی فائدہ نہیں اور اگر جنت کے لیے تمہاری پیدائش ہوئی تو موت مانگنا تمہارے لیے مضر ، کیونکہ لمبی عمر میں زیادہ نیکیاںکرو گے جس سے جنت میں تمہارے درجے بڑھیں گے، خیال رہے کہ حضور انورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا ’’اگر‘‘ فرمانا بے علمی کی بنا پر نہیں، حضرت سیِّدُناسعدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں جن کے قطعی جنتی ہونے کی خبر خود سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   دے چکے ہیں، ان کا جنتی ہونا ایسا ہی قطعی و یقینی ہے جیسا ﷲ کا ایک ہونا یہ ’’اِنْ‘‘ علت بیان کرنے کے لیے ہے، جیسے ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَنۡتُمُ الۡاَعْلَوْنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ﴿۱۳۹﴾ (پ۴،ال عمران: ۱۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان: تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ نہ صحابہ کا ایمان مشکوک نہ خدا ان کے ایمان سے بے خبر، معنی یہ ہیں کہ چونکہ تم جنت کے لیے پیدا کیے جا چکے ہو لہٰذا تمہاری درازیٔ عمر بہتر ہے۔‘‘(1)
سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی دعااورشفقت:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مرآۃ المناجیح،کتا ب الجنائز ، باب موت کی آرزو، ج۲،  ص۴۴۲ تا۴۴۳