تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی کہ ہمارے دل نرم کر دیئے،حضرت سیِّدُناسعد ابن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رونے لگے اور بہت روئے اور کہنے لگے:’’اے کاش!میں مرجاتا۔‘‘ حضور نبی ٔکریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’اے سعد!کیا میرے سامنے موت کی آرزو کرتے ہو؟ ‘‘ تین بار یہی ارشاد فرمایا۔ پھر فرمایا: ’’ اے سعد! اگر تم جنت کے لیے پید ا کیے گئے ہو توجس قدر تمہاری عمر زیادہ ہوگی اورتمہارے عمل اچھے ہوں گےیہ اتنا ہی تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘(1)
حکیم الامت مفتی احمد یارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس حدیث پاک کی شرح میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’یعنی کیا میری زندگی میں اور میرے پاس رہ کر موت مانگتے ہو تمہیں اس وقت میری صحبتیں اور زیارتیں نصیب ہیں جو موت سے جاتی رہیں گی، اگر چہ تمہیں بعدِ موت بڑے درجے ملیں گے مگر وہ سارے درجے اس ایک نظر پر قربان جو تمہیں اب میسر ہیں۔ کسی فقیر سے پوچھا گیا کہ مومن کی زندگی بہتر ہے یا موت؟ اس نے کہا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیات میں مومن کی حیات بہتر تھی اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات کے بعد اب موت بہتر ہے کہ اس زمانہ میں زندگی میں دیدار تھا اور اب بعد موت ہی ہو گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تاریخ مدینہ دمشق، حفص بن عمر،ج۱۴، ص۴۲۳