Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
60 - 87
اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چُھپا تم پہ کروڑوں درود
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
محبوبِ خدا:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہزادی حضرت سیدتنا عائشہ بنت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  روایت کرتی ہیں کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسجد میں تشریف فرما ہو کر تین راتیں یہ دعا مانگی: ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اس دروازے سے اپنے اس بندہ کو داخل فرما جسے تو محبوب رکھتا ہے اور وہ تجھے محبوب رکھتا ہے۔‘‘ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی دعاکے بعدہرباراس دروازے سے میرے والدِ ماجد یعنی حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی داخل ہوئے۔(1)
اے کاش! میں مرجاتا:
حضرت سیِّدُنا ابو امامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تاریخ مدینۃ دمشق، سعد بن مالک ابی وقاص ،ج۲۰ص ۳۲۷