Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
58 - 87
ہیں: ’’ایک باررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اورآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مخلوق کی ابتدا سے جنتیوں کے جنت میں جانے اورجہنمیوں کے جہنم میں جانے تک کے تمام معاملات کی خبر دے دی۔ پس ہم میں سے اسے جس نے یادرکھاسویادرکھااورجو بھول گیاسو بھول گیا۔‘‘(1)
معلوم ہواکہ سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کومخلوقات کی پیدائش سے لے کرجنتیوں کے جنت میں جانے اور دوزخیوں کے دوزخ میں داخل ہونے تک کے سارے حالات کا علم ہے۔
﴿2﴾… حضرت سیِّدُنا ابو زید عمرو بن اخطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ’’ایک دن خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں نمازفجرپڑھائی، پھرآپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اوربیان فرمایا یہاں تک کہ ظہرہوگئی،منبرسےنیچے تشریف لائے اور نمازِ ظہر پڑھائی، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور بیان فرمایا یہاں تک کہ عصرہوگئی،پھرنیچے تشریف لائے اور نمازِ عصر پڑھائی، پھر منبر پر تشریف لے گئے اوربیان فرمایایہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ اس بیان میں سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے جوکچھ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح البخاري، کتاب بدء الخلق، الحدیث:۳۱۹۲، ج۲، ص۳۷۵