ہونے کاحکم فرمایا تو وہ ساکن ہو گیا۔
نیز علمِ غیب ِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہاریں بھی پھول بکھیررہی ہیں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فقط حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہی نہیں بلکہ حرا پہاڑ پر موجود دیگر چار وں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے انتقال سے قبل ان کی شہادت کو بیان فرما دیا۔
ایک وسوسہ اور اس کا جواب:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہوسکتا ہے کہ شیطان کسی کے دل میں یہ وسوسہ ڈالے کہ غیب کا علم تو صرف اللہ 1ہی کو ہے، انبیائے کرام یا اولیائے عظام کے لیے علم غیب کا ثبوت کیسے ہوسکتاہے؟چنانچہ،
شیخِ طریقت، امیر اہلسنت،بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارقادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’خوفناک جادوگر‘‘ صفحہ نمبر ۱۱ پراس وسوسے کاجواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہرغائب وحاضرکوجاننے والا ہے، اس کا علمِ غیب ذاتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ سے ہے،جبکہ ا نبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کا علمِ غیب عطائی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ سے بھی نہیں۔ انہیں جب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بتایا تب سے ہے اور جتنا بتایا اُتنا ہی ہے، اِس کے