Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
54 - 87
عوض اس سے نکاح کیا ہے اور اب یہ فقط میرے لئے حلال ہے تیرے لئے اس کا بال برابر حصہ بھی جائز نہیں۔ لہٰذا یہاں سے چلا جا، دوبارہ پلٹ کر کبھی نہ آنا۔‘‘ یہ سننا تھا کہ سانپ وہاں سے بھاگ کر دروازے سے باہر نکل گیا۔ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک شخص کو اس کا پیچھا کرنے کا حکم دیا تا کہ پتا چلے کہ وہ کہاں جاتا ہے؟ وہ مسجدِ نبوی شریف کے دروازے سے داخل ہو کر درمیان میں پہنچا اور جست لگا کر مسجد کی چھت میں غائب ہو گیا، اس کے بعد دوبارہ کبھی پلٹ کر نہیں آیا۔(1)
شہادت کی بشارت:
حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جبلِ حرا پرتشریف لے گئےتو اچانک وہ لرزنے لگا۔محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اے حرا! ٹھہر جا کہ اس وقت تجھ پر نبی، صدیق اور شہید کھڑے ہیں۔ جب سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے یہ ارشادفرمایا اس وقت آپ کے ساتھ حضرت سیِّدُناابو بکرصدیق ،حضرت سیِّدُناعمرفاروق،حضرت سیِّدُناعثمان غنی،حضرت سیِّدُناطلحہ ،حضرت سیِّدُنا زبیر اورحضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… دلائل النبوۃ للبیھقی، باب ما جاء في حرز الربيَّع بنت مُعوِّذ ابن عفراء، ج۷، ص۱۱۷