’’ہم قوم کے امام و رہنما ہیں جن کی اقتدا کی جاتی ہے۔‘‘(1)
معلوم ہوا کہ امام کو چاہیے کہ جماعت کی رعایت کرے اور قدر مسنون سے زیادہ طویل قراء ت نہ کرے کہ یہ مکروہ ہے۔(2)
سانپ نے آپ کی اطاعت کی:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بَنِی عُذْرَہ کی ایک عورت سے نکاح فرمایا، ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے دوستوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ نے قاصد بھیج کر گھر بلایا۔ کچھ تاخیر ہو گئی تو قاصد دوبارہ پیغام لے کر آ گیا۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فوراً گھر تشریف لے گئے اور گھر بلانے کی وجہ پوچھی؟ تو زوجہ نے بجائے جواب دینے کے بستر پر کنڈلی مارے اژدہے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عرض کی: ’’کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں؟ یہ آپ کے نکاح میں آنے سے پہلے کا میرے پیچھے پڑا ہوا ہے مگر آپ کے گھر اور زوجیت میں آنے کے بعد آج پہلی مرتبہ یہ یہاں آیا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اژدہے سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’کیا تو سنتا نہیں؟ یہ میری زوجہ ہے، میں نے حق مہر کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، سعد بن مالک ابی وقاص، ج۲۰، ص۳۶۱
2… الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الامامۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۷