Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
52 - 87
کہ جیسے ہی کوئی برائی نظر آئے تو حکمتِ عملی سے اسے روک دیا جائے کیونکہ کسی مسلمان کو گناہ کرتے دیکھ کر اسے روک دینا یقیناً بہت بڑی بھلائی اور سعادت ہے۔ غیبت تو ایک بہت ہی قبیح گناہِ کبیرہ ہے، اس سے اپنے آپ کو بچانا اور دیگر مسلمانوں کو بچنے کی ترغیب دلانا بے حد ضروری ہے۔چنانچہ، 
مدنی مشورہ:
غیبت کی تعریف، اس کی مختلف مثالیں، تباہ کاریاں اور اس سے متعلقہ دیگر امور پر مشتمل دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 504 صفحات پر مشتمل، شیخ طریقت امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف ’’غیبت کی تباہ کاریاں‘‘ کا ضرور مطالعہ فرما لیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس گناہِ کبیرہ سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کا مدنی ذہن ملے گا۔
اُمت کی خیر خواہی:
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب نماز کے لئے باہر تشریف لاتے تو کامل رکوع وسجود کے ساتھ مختصر نماز ادا فرماتے لیکن جب گھر میں نماز ادا فرماتے تو طویل نماز پڑھتے۔ کسی نے وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا: