ہوئے گفتگو فرما رہے تھے کہ انہوں نےامیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکا تذکرہ شروع کر کے ان کی غیبت شروع کر دی۔ آ پ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے غیبت کا بائیکاٹ کرتے ہوئے انہیں سختی سے روکا اور ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو برا بھلا مت کہو کیونکہ سرکارِ دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں رہتے ہوئے بھی اگرچہ ہم سے کچھ لغزشیں ہوئیں لیکن قرآنِ پاک کی اس آیتِ مبارکہ نے سب کے لئے براءتِ عامہ کا اعلان کر دیا ہے:
لَوْلَاکِتٰبٌ مِّنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیۡمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۶۸﴾ (پ۱۰، الانفال: ۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اگر اللہپہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہوتا تو اے مسلمانو تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لے لیا اس میں تم پر بڑا عذاب آتا۔
اور ہم دیکھتے تھے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہماری جانب لپکتی تھی۔(1)
برائی سے روکنابہت بڑی سعادت ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر یعنی نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کا یہ ایک عظیم جذبہ ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تاریخ مدینۃ دمشق ،سعد بن مالک ابی وقاص ج۲۰ص ۳۵۸