Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
50 - 87
چیل کو سزا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی اللہ والوں کی شان میں گستاخی دنیا وآخرت کی بربادی ہے، بالخصوص صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی گستاخی توغضب الٰہی کودعوت دینا ہے،جبکہ حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تووہ صحابی ہیں جو مُسْتَجَابُ الدَّعْوَات تھے،بلکہ ایسے مُسْتَجَابُ الدَّعْوَات کہ انسانوں کے علاوہ آپ کی دعا جانوروں کے حق میں بھی قبول ہو جاتی تھی۔ چنانچہ،
امیر المومنین حضرت سیِّدُناعثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ میں گوشت تھا، اچانک ایک چیل نے جھپٹا مارا اور گوشت اچک کر لے گئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی زباں پر بے ساختہ اس کےلئے بد دعا کے کلمات جاری ہو گئے جس کا اثر یہ ہوا کہ اس گوشت میں موجود ہڈی اسکے گلے میں پھنس گئی جس کے سبب وہ زمین پر گر کر مر گئی۔(1)
غیبت کے خلاف جنگ:
حضرت سیِّدُنا ابو عبد الرحیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے ساتھیوں کے ساتھ کہیں بیٹھے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المجالسة وجواهر العلم، الجزء الثالث، الحدیث:۱۵۰، ج۱،  ص۱۸۰