کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی شان میں گستاخی وبے ادبی کے الفاظ بکنے لگا،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے ارشادفرمایا:’’تم اپنی اس خبیث حرکت سے باز رہو ورنہ میں تمہارے لئے بددعاکردوں گا۔‘‘اس گستاخ وبے باک نے کہا: ’’مجھے آپ کی بددعاکی کوئی پرواہ نہیں، آپ کی بددعاسے میراکچھ بھی نہیں بگڑ سکتا۔‘‘یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جلال آگیا اور آپ نے اسی وقت یہ دعا مانگی کہ’’ یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ !اگر اس شخص نے تیرے پیارےحبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیارے اصحاب کی توہین کی ہے تو آج ہی اس کو اپنے قہر وغضب کی نشانی دکھادے تاکہ دوسروں کو اس سے عبرت حاصل ہو۔‘‘اس بددعاکے بعد جیسے ہی وہ شخص مسجد سے باہر نکلااچانک ایک پاگل اونٹ کہیں سے دوڑتاہوا آیا اور اس کو اپنے دانتوں سےچیرپھاڑدیااوراس کے اوپربیٹھ کر اس قدرزورسے دبایاکہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں اور وہ شخص فوراً ہی مر گیا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ دوڑے دوڑےحضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ کی دعامقبول ہوگئی اورصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا دشمن نیست ونابود ہوگیا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دلائل النبوۃ للبیھقی،باب ماجاء فی دعارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لسعدبن ابی وقاص۔۔۔الخ ، ج۶، ص۱۹۰… تاریخ مدینہ دمشق ،سعد بن مالک ابی وقاص، ج۲۰، ص۳۴۶ملتقطاً