Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
48 - 87
نہیں کی جائیں گی اوراس کی دعا بھی چالیس دن تک نامقبول ہو گی۔‘‘(1)
تُوْبُوْا اِلَی اللہِ!	 اَسْتَغْفِرُ اللہ
عمربڑھادی گئی:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دُعا اور بددُعا دونوں کی قبولیت کے بے شمار واقعات ملتے ہیں۔ آپ کی دعا کی قبولیت کا ایک مشہور واقعہ یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اولاد کے نابالغ ہونے کی بنا پر اپنے لیے درازیٔ عمر کی دُعا مانگی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے شرفِ قبولیت عطا فرمایا۔ چنانچہ،
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک مرتبہ یوں دعا فرمائی: ’’اے میرے مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ !میری اولاد ابھی چھوٹی ہے مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے۔‘‘ چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دُعا یوں قبول ہوئی کہ اس دعا کے بعد مزید بیس سال تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ زندہ رہے۔‘‘(2)
گستاخِ صحابہ کاعبرتناک انجام:
ایک شخص حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سامنے صحابۂ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… فردوس الاخبار ،الحدیث: ۶۲۶۳، ج۲،  ص ۳۰۰
2… تاریخ مدینۃ دمشق،حضرت سعد بن ابی وقاص ،ج۲۰ص ۳۵۰