اس کے بعد حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ عالم ہو گیا کہ گندم کی ایک بالی بھی اپنے جانوروں کے خشک چارے میں دیکھ لیتے (اور شک گزرتا کہ شاید یہ ان کے کھیت کی نہیں) تو خدام سے ارشاد فرماتے: اس کو واپس وہیں لوٹا دو، جہاں سے اسے کاٹا ہے۔(1)
ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج ہماری اکثریت یہی شکوہ کرتی ہے کہ ’’ہماریں دعائیں قبول نہیں ہوتیں‘‘ حالانکہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے سب سے بڑا اور اہم سبب اپنی روزی کو پاک اور حلال کرنا ہے، جس کی طرف ہماری قطعاً توجہ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ہم طرح طرح کی پریشانیوں اور مصیبتوں میں گھرے ہوئے ہیں، یقیناً جس طرح اپنے آپ کو لقمۂ حرام سے محفوظ رکھنا بہت بڑی سعادت ہے، اسی طرح لقمۂ حرام سے محفوظ نہ رہنا بہت بڑی محرومی اور رزق میں تنگی کا سبب ہے۔ اس کے علاوہ ایک لقمۂ حرام چالیس دن کی نمازوں اور دعاؤں کی عدمِ قبولیت کا بھی سبب ہے۔ چنانچہ،
دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ عبرت بُنیاد ہے:
’’جس نے حرام کا ایک لقمہ کھایا اُس کی چالیس دن کی نَمازیں قَبول
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تاریخ مدینۃ دمشق ، سعد بن مالک ابی وقاص،ج۲۰ص ۳۴۰