ان کی دعاؤں کی قبولیت کا سبب کیا تھا، وہ کون سا نسخہ تھا جس کے سبب انہیں یہ سعادت حاصل تھی، آئیے! بارگاہِ نبوی سے حاصل ہونے والے اس نسخے کو دیکھتے ہیں جس کے سبب ہم بھی اپنی دعاؤں کو قبولیت کی منزل تک پہنچا سکتے ہیں۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا جُبَیْر بِنْ مَطْعَمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا فرمائیے کہ وہ میری دعا کو قبول فرمائے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:
’’اے سعد!اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کی دعا کو اس وقت تک قبول نہیں فرماتا جب تک کہ اس کا رزق پاک (یعنی حلال) نہ ہو جائے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:
یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دعا فرما دیجئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ میری روزی کو پاک وصاف فرما دے کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا کے بغیر میں تو اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ پس سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں دعا فرمائی: ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! سعد کی روزی کو پاک فرما دے۔‘‘