کے بعد کبھی دیکھا۔ یعنی وہ حضرت جبرائیل ومیکائیل عَلَیْہِمَا السَّلَام تھے۔(1)
مستجابُ الدعوات:
حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دعا کی قبولیت کےمعاملے میں تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ممتاز تھے،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہر دعا قبول ہوجاتی تھی خواہ وہ کسی کے حق میں ہوتی یااس کے خلاف۔ اسی وجہ سے لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بد دعا سے خوف کھاتے اور دعا کی تمنا رکھتے تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کویہ اعزاز دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ سے حاصل ہوا تھا۔ چنانچہ،
سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حق میں بارگاہِ خداوندی میں یوں دعا فرمائی: ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! سعد جب بھی تجھ سے دعا کرے تو اُس کی دعا قبول فرما۔‘‘(2)
دعا کی قبولیت کا نسخہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مُسْتَجَابُ الدَّعْوَات تھے ان کی دعائیں قبول ہو جاتی تھیں، لیکن
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الریاض النضرۃ، الباب الثامن فی مناقب سعد بن مالک ،الفصل السادس، ج۲، ص۳۲۶
2…سنن الترمذی، کتاب المناقب،مناقب سعد بن ابی وقاص، الحدیث:۳۷۷۲، ج۵، ص۴۱۸