عزائم کی تکمیل کے لئے وہ بارہاقاتلانہ حملے بھی کر چکے تھے۔ اس لیے کچھ جاں نثار صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم باری باری راتوں کو آپ کی مختلف خوابگاہوں اور قیام گاہوں کا شمشیر بکف ہو کر پہرہ دیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رہا اور جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:
وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ(پ۶، المائدۃ:۶۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے۔
تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:
’’اب پہرہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ سے وعدہ فرما لیا ہے کہ وہ مجھے میرے تمام دشمنوں سے بچائے گا۔‘‘(1)
ان جاں نثار پہریداروں میں چند خوش نصیب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں، ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
(۱)امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔
(۲) حضرت سیِّدُناسعد بن معاذ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔
(۳) حضرت سیِّدُنا محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔
(۴)حضرت سیِّدُنا ذکوان بن عبد قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب التفسیر،باب من سورۃ المائدۃ،الحدیث:۳۰۵۷، ج۵، ص۳۵ مفھوماً