Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
42 - 87
منورہ آنے کے بعد ایک رات سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بیدار ہو گئے اور ارشاد فرمایا: کاش! میرے صحابہ میں سے کوئی نیک شخص آج رات میری نگہبانی کی سعادت حاصل کرتا۔ ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں کہ ابھی ہم اسی حال میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایسے لگا جیسے کوئی آیا ہو اور اس کے پاس ہتھیار بھی ہوں۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: کون ہے؟ تو آواز آئی: سعد بن ابی وقاص۔ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اس وقت کیوں آئے ہو؟ انہوں نے عرض کی: میرے دل میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تنہائی کے سبب کفار سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہوا تو میں بے قرار ہو کر بغرضِ نگہبانی چلا آیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ان کی جانثاری پر خوش ہو کر دعا دی اور پھر آرام فرمانے لگے۔(1)
خصوصی محافظ صحابۂ  کرام:
کفار چونکہ محسنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جانی دشمن تھے اور ہر وقت تاک میں لگے رہتے تھے کہ اگر ذرا بھی موقع مل جائے تو تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو شہید کر ڈالیں، بلکہ اپنے ناپاک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 …صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل سعد بن ابی وقاص، الحدیث:۲۴۱۰، ص۱۳۱۴