سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ سب ملاحظہ فرمارہے تھے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اتنا مسکرائے کہ میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک داڑھوں کی زیارت کر لی۔(1)
تیر اندازی میں مہارت کا راز:
حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبہت ماہر تیر انداز تھے، مختلف جنگوں میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو تیر اندازی ہی کی ذمہ داری سونپی جاتی تھی، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تیراندازی میں مہارت کا راز یہ تھا کہ خود سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کے لیے دعافرمائی تھی۔ چنانچہ،
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے یوں دعا فرمائی: اَللّٰھُمَّ سَدِّدْسَھْمَہ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! سعد کے تیر کو درستی عطا فرما۔‘‘(2)
دربارِمصطفےٰ کے نگہبان:
ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ مدینہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل سعد بن ابی وقاص، الحدیث:۲۴۱۲، ص۱۳۱۵
2 … کنزالعمال، باب فضائل الصحابہ سعدبن ابی وقاص،الحدیث:۳۶۶۴۰،ج ۱۳ص۹۲