محسنِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جس وارفتگی اور شفقت و پیار بھرے انداز سے یہ ارشاد فرمایا غالباً اس طرح کبھی کسی صحابی کو نہ فرمایا۔ چنانچہ،
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے کہ حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی کسی کے لئے اپنے ماں باپ کو جمع نہیں فرمایا سوائے حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے۔ غزوۂ اُحد کے دن سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود ان سے ارشاد فرما رہے تھے: ’’اِرْمِ فِدَاکَ اَبِی وَاُمِّی یعنی تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں! تیر مارو۔‘‘(1)
حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہخود بیان کرتے ہیں کہ اُحد کے د ن حضور نبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے والدین کریمین کو میرے لئے جمع فرمایا، اس طرح کہ مشرکین میں سے جنگ میں شریک ایک شخص مسلمانوں کوبہت نقصان پہنچارہاتھا، سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا:’’اِرْمِ فِدَاکَ اَبِی وَاُمِّییعنی تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں تیر مارو۔‘‘ میں نے ایک بغیرپر کاتیرلے کر اس کے پہلو پر مارا جس سے وہ گر پڑا اور اس کی شرم گاہ کھل گئی،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل سعد بن ابی وقاص، الحدیث:۲۴۱۱، ص۱۳۱۴