سے وابستہ ہوئے توخوش بختیوں اور سعادتوں نے ان کے آستانوں پرڈیرے ڈال لیے، بلکہ فقروفاقہ اورتنگدستی بھی ان کے دربارسے فیض لینے پہنچ جایا کرتے تھے،یہ صحبتِ رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کا فیضان تھا کہ آج سارا زمانہ ان کی غلامی پرنازکرتاہے کیوں نہ ہوکہ
دامنِِ مصطفےٰ سے جو لپٹا یگانہ ہو گیا
جس کے حضور ہو گئے اس کا زمانہ ہو گیا
تمام صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اپنے محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پراپناتن من دھن سب کچھ فدا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہا کرتے تھے، سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ ناز میں حاضری سے قبل ’’فِدَاکَ اَبِی وَاُمِّی یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں‘‘ جیسے والہانہ جذبات سے ان کی زبان ہر وقت تر رہتی تھی، لیکن قربان جائیےحضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی قسمت پر! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ صحابی ہیں جنہیں خود نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی زبانِ حقِ ترجمان سے ارشاد فرمایا: ’’فِدَاکَ اَبِی وَاُمِّی یعنی اے سعد! تجھ پر میرے ماں باپ قربان۔‘‘