مدینہ، قرارِ قلب و سینہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں آئی،ہماری غربت اور ادنیٰ لباس دیکھ کروہ لوگ کہنے لگے کہ ہمیں اِن لوگوں کے پاس بیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے ، اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں گے تو ہم آپ کے پاس آئیں گے۔ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی اس شرط کو منظور نہ فرمایا ۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:
وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ ؕ مَا عَلَیۡکَ مِنْ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۲﴾ (پ۷،الانعام:۵۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے۔(1)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میرے ماں باپ تم پرقربان:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یوں تو تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جیسے ہی دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحر وبَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دامن رحمت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تاریخ مدینۃ دمشق ،سعد بن مالک ابی وقاص،ج۲۰، ص۳۳۰