Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
37 - 87
مہاجرین و انصارکے چند نوجوانوں کے پاس پہنچا جو ’’ حش‘‘ نامی ایک باغ میں جمع تھے اور ان کے پاس بھنا ہوا اونٹ کا گوشت اور شراب بھی تھی، ان کی دعوت پر میں بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا،کچھ دیر بعد میری زبان سے یہ الفاظ نکلے: ’’مہاجرین انصار سے بہتر ہیں‘‘ جس پر ایک شخص نے ہڈی اٹھا کر مجھے دے ماری،میری ناک زخمی ہو گئی،بہرحال بات آئی گئی ہوگئی۔ میں بعد میں دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور یہ ساراواقعہ عرض کیا جس پرپارہ۷ سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۹۰  نازل ہوئی: اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجْتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾ (پ۷، المائدۃ:۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان: شراب اور جُوااور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔(1)
چوتھی آیت:
حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:ایک بار میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر چار صحابۂ  کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے، اسی دوران کُفّار کی ایک جماعت شہنشاہِ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 …صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل سعد بن ابی وقاص، الحدیث:۲۴۱۲، ص۱۳۱۶