والدہ بہت غمگین ہو گئی اور اس نے قسم کھائی کہ وہ ان سے اس وقت تک بات کرےگی نہ کھائے پئے گی جب تک کہ وہ دین اسلام کو چھوڑ نہ دیں اور بڑے مان سے کہنے لگی: ’’تمہارا تو یہ کہنا ہے کہ تمہارے ربّ نے تمہیں والدین کی اطاعت وفرمانبرداری کا حکم دیا ہے لہٰذا میں تیری ماں ہوں اور تجھے دین اسلام چھوڑنے کاحکم دیتی ہوں۔‘‘ وہ تین دن تک اسی حال میں رہی نہ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو گئی۔کچھ ہوش آیا تو وہ حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بد دعا دینے لگی،تب قرآن مجید کی یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی: وَ وَصَّیۡنَا الْاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ حُسْنًا ؕ وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ لِتُشْرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا ؕ (پ۲۰، العنکبوت:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ مان۔(1)
تیسری آیت:
حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپناایک واقعہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’جب شراب کی حرمت کا حکم نازل نہ ہوا تھاتومیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب فی فضل سعد بن ابی وقاص، الحدیث:۲۴۱۲، ص۱۳۱۵ ملخصاً