کی بارگاہ میں پہنچے اور ساتھ ہی یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ یہ تلوار مجھے عطاکردی جائے لیکن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’اس کو مال غنیمت میں جمع کروا دو‘‘ (کیونکہ اس وقت تک مالِ غنیمت میں تصرف جائز نہیں تھا) پس میں وہاں سے پلٹا اور اپنےبھائی کے شہید ہو جانے اور اپنا مال یعنی تلوار چلے جانے کی وجہ سے افسردہ تھا، ابھی تھوڑا دور ہی گیا تھا کہ سورۃُ الانفال کی پہلی آیتِ مبارکہ نازل ہوگئی :
یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلہِ وَ الرَّسُوۡلِ ۚ فَاتَّقُوا اللہَ وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ ۪ وَ اَطِیۡعُوا اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱﴾ (پ۹، الانفال:۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب تم سے غنیمتوں کو پُوچھتے ہیں تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ و رسول ہیں تو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس میں میل رکھو اور اللہ و رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو۔
شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے بلاکر فرمایا جاؤ اور اپنی تلوار لے لو۔(1)
دوسری آیت:
حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام لاتے ہی ان کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… عمدۃ القاری ،کتاب تفسیر القرآن ،باب سورۃ الانفال ، الحدیث۴۶۴۵، ج۱۲، ص۲۴۸