Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
34 - 87
سورۃ الدخان کی آیات25تا29جاری ہوگئیں:
کَمْ تَرَکُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۲۵﴾ وَّ زُرُوۡعٍ وَّ مَقَامٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۲۶﴾ وَّ نَعْمَۃٍ کَانُوۡا فِیۡہَا فٰکِہِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾ کَذٰلِکَ ۟ وَ اَوْرَثْنٰہَا قَوْمًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۲۸﴾ فَمَا بَکَتْ عَلَیۡہِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَمَا کَانُوۡا مُنۡظَرِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾ (پ۲۵، الدخان:۲۵تا ۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان: کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے اور کھیت اور عمدہ مکانات اور نعمتیں جن میں فارِغُ البال تھے، ہم نے یونہی کیا، اور ان کا وارِث دوسری قوم کو کردیا، تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں مُہلَت نہ دی گئی۔ (1)
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے متعلقہ آیات:
حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود ارشادفرماتے ہیں کہ میرے متعلق قرآن پاک کی چار آیات نازل ہوئیں۔
پہلی آیت:
جنگ بدرمیں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کفار کے ناقابل شکست سمجھے جانے والے سردار سعید بن عاص کو واصلِ جہنم کیا اور اس کی تلوار لے لی جو کہ بہت وزنی اور قیمتی تھی۔ اسے لے کر میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 …الکامل فی التاریخ، ذکر فتح المدائن التی فیھا ایوان کسری، ج۲، ص۳۵۷ تا ۳۶۰ مختصراً