دریا میں اُتار دیئے،کسی شاعر نے کیاخوب کہاہے:
دَشْت تو دَشْت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بَحرِ ظُلمات میں دَوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
دیو آگئے۔۔۔! دیوآگئے۔۔۔!
دُشمنوں نے جب دیکھاکہ مجاہدین اسلام دریائے دَجلہ کے پھُنکارتے ہوئے پانی کا سینہ چیرتے ہوئے مردانہ وار بڑھے چلے آرہے ہیں تو اُن کے ہوش اُڑ گئے اور ’’دَیواں آمَدَنْد دَیواں آمَدَنْد‘‘ یعنی دیو آگئے دیو آگئے کہتے ہوئے سر پر پَیر رکھ کربھاگ کھڑے ہوئے۔ شاہِ کِسریٰ کا بیٹا یَزد گرد اپنا حَرَم (یعنی گھر کی عورَتیں) اور خزانے کا ایک حِصّہ پہلے ہی ’’حُلوَان‘‘ بھیج چکا تھا اب خود بھی مَدائِن کے درود یوار پر حسرت بھری نظر ڈالتا ہوا بھاگ نکلا۔ حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ’’مدائن‘‘ میں داخِل ہوئے تو ہر طرف عبرتناک سنّاٹا چھایا ہو اتھا، کِسریٰ کے پُرشِکوہ محلّات، دوسری بلند و بالا عمارات اور سرسبزو شاداب باغات زَبانِ حال سے دنیائے دُوں (یعنی حقیر دنیا) کی بے ثَباتی (یعنی ناپائیداری) کا اِعلان کر رہے تھے ۔یہ منظر دیکھ کر بے اختیار حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زَبانِ مبارک پر پارہ 25