حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دعا میری دعا سے بہتر تھی۔ چنانچہ میں نے جنگ کے بعد دیکھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کو نہ صرف شہادت کے مرتبے پر فائز فرمایا بلکہ ان کی دوسری دعا کو بھی قبول فرمایا کیونکہ میں نے دیکھا کہ ان کے کان اورناک ایک دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔(1)
بارگاہِ رسالت سے درازیٔ عمر کی دعا:
حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حَجَّۃُ الْوَدَاع کے موقع پر مکہ معظمہ میں شدید بیمار ہو گئے کہ انہیں اپنی زندگی کی امید نہ رہی تووہ بے چین ہوگئےکیونکہ انہیں پسند نہ تھا کہ ان کا انتقال اس سرزمین (یعنی مکہ) میں ہو جس سے وہ ہجرت کر چکے ہیں۔ چنانچہ رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو آپ نے ان کی بے قراری دیکھ کر تسلی دی اور درازیٔ عمر کی دعا فرماتے ہوئے یہ بھی بشارت دی کہ’’تم ابھی نہیں مرو گے بلکہ تمہاری زندگی لمبی ہو گی اور بہت سے لوگوں کوتم سے نفع اور بہت سے لوگوں کو نقصان ہوگا۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تاریخ مدینۃ دمشق ، سعد بن مالک ابی وقاص،ج۲۰، ص۳۴۰
2 …صحیح البخاری ،کتاب الوصایا، باب ان یترک ورثتہ...الخ، الحدیث: ۲۷۴۲،ج۲،ص۲۳۲