عجیب و غریب دعا:
حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ غزوۂ اُحدکے دن حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میرے پاس آئے اور کہا کہ’’ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّسے کوئی دعاکیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ ہم دعاکے لئے ایک جانب چلے گئے ۔پہلے میں نے بارگاہِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں یوں دعا کی: ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! کل جب کافروں سے ہمارا سامنا ہو تو میرے مقابلے میں ان کا انتہائی طاقتور اور جنگجو شہسوار آئے۔ میں تیری راہ میں اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے پھر تو مجھے اس پر غلبہ نصیب کرے حتی کہ میں اسے قتل کر دوں اور اس کے ہتھیار وغیرہ لے لوں۔‘‘ پس میری دعا پر حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے’’آمین‘‘ کہااور پھر یوں بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوئے: ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! کل میرے مقابلے میں کافروں کا انتہائی بہادر اور طاقتور پہلوان آئے۔ میں اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے حتی کہ وہ مجھ پر قابو پا لے اور میرے ناک اور کان کاٹ ڈالے اور پھر جب میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اور تو مجھ سے پوچھے کہ اے عبداللہ! تو نے کس کی خاطر یہ ناک اور کان کٹوائے؟ تو میں عرض کروں: تیرے اور تیرے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاطر۔ تو تو فرمائے: ہاں! تو نے سچ کہا۔‘‘